سورہ فتح
محمد | سورۂ فتح | حجرات | |||||||||||||||||||||||
![]() | |||||||||||||||||||||||||
|
سورہ فتح قرآن کی 48ویں اور مکی سورتوں میں سے ہے جو 26ویں پارے میں واقع ہے۔ اس سورت کی پہلی آیت فتح مبین کے بارے میں ہے اسی لئے اس سورت کو "سورہ فتح" کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کفار پر مسلمانوں کی فتح، ایمان، جہاد اور اخلاص کا ثواب، مجاہدین کی لغزشوں کی معافی، کافروں اور کاہل مسلمانوں کی تنبیہ اور دین خدا کا جہانی ہونا اس سورت کے عمدہ مضامین میں سے ہیں۔ اس سورت کی پہلی آیت فتح مبین اور 18ویں آیت بیعت رضوان کے بارے میں ہے جو اس سورت کی مشہور آیات میں شامل ہیں۔
سورت فتح کی فضیلت کے بارے میں آیا ہے کہ جو شخص اس سورت کی تلاوت کرے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ فتح مکہ میں شرکت کی ہو اور بیعت شجرہ میں آپ کی بیعت كی ہو۔
اجمالی تعارف
- نام
اس سورت کی پہلی آیت "فتح مبین" کے بارے میں ہے اس لئے اس کا نام "سورہ فتح" رکھا گیا ہے۔[1]
- ترتیب اور محل نزول
سورہ فتح مدنی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار یں 112ویں جبکہ مُصحَف کی موجودہ ترتیب کے اعتبار سے 48ویں سورت ہے اور قرآن کے 26ویں پارے میں واقع ہے۔[2]
- آیات کی تعداد اور دوسری خصوصیات
سورہ فتح 29 آیات، 560 کلمات اور 2509 حروف پر مشتمل ہے۔ حجم و کمیت کے لحاظ سے سورمثانی کے زمرے میں آتی ہے اور تقریبا ایک حزب کے برابر ہے۔[3] اس سورت کو ممتحنات[یادداشت 1] میں بھی شمار کیا جاتا ہے؛[4] کیونکہ اس سورت کے مضامین بھی سورہ ممتحنہ کے مضامین کے ساتھ شباہت رکھتے ہیں۔[5]
غیب کی خبر دینا اور آئندہ کی پیشن گوئی جو سب کے سب محقق بھی ہوئے ہیں، اس سورت کی خصوصیات میں سے ہیں۔[6]
مفاہیم
سورہ فتح کا اصلی موضوع مسلمانوں کی فتح اور خدا کے وہ احسانات ہیں جو اس نے اپنے رسول اور مومنین پر کئے ہیں۔[7] اس سورت میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ کی نوید کے ساتھ ساتھ انہیں دلی سکون اور اطمینان کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن ایمان، جہاد اور اخلاص کی جزا، مجاہدین کے گناہوں کی مغفرت، کفار و منافقین اور کاہل مسلمانوں کی تنبیہ، پیغمبر اکرمؐ کا مقام، وحی اور نبوت کے مقاصد کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔[8]
پس اس سورت کے مطالب کو درج ذیل نکات میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے:
- فتح کی نوید اور مکہ میں داخل ہونے اور عمرہ کے مناسک کی انجام دہی سے متعلق پیغمبر اکرمؐ کے خوابوں کے محقق ہونے پر تاکید؛
- صلح حدیبیہ سے مربوط واقعات، مؤمنین کے دلوں پر اطمینان نازل ہونا اور بیعت رضوان کے واقعات کی طرف اشارہ؛
- پیغمبر اکرم کے مقام و مرتبہ نیز ان کے بلند اہداف و مقاصد کی طرف اشارہ؛
- منافقین کی بد عہدی اور ان کی طرف سے جہاد میں شرکت نہ کرنے کیلئے پیش کردہ بیہودہ بہانوں کے نمونے؛
- منافقین کے بے جا تقاضے؛
- میدان جہاد میں شرکت سے معذور افراد کی معرفی؛
- پیغمبر اکرمؐ کی خصوصیات اور آپ کے مختصات۔[9]
صلح حدیبیہ، مؤمنوں کا امتحان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھٹا گفتار؛ آیہ ۲۹ پیغمبر کے سچے پیروکاروں کا اجر | پانچواں گفتار؛ آیہ ۲۲-۲۸ صلح حدیبیہ کی علت | چوتھا گفتار؛ آیہ ۱۸-۲۱ جن مؤمنوں نے صلح حدیبیہ میں پیغمبر کی نصرت کی ہے ان کا اجر | تیسرا گفتار؛ آیہ ۱۱-۱۷ اسلامی لشکر میں حاضر نہ ہونے والے منافقوں کی مذمت | دوسرا گفتار؛ آیہ ۸-۱۰ صلح حدیبیہ میں مؤمنوں کی ذمہ داری | پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۷ صلح حدیبیہ کے نتائج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلا مطلب؛ آیہ ۲۹ تورات اور انجیل میں پیغمبر کے ماننے والوں کے اوصاف | دوسرا مطلب؛ آیہ ۲۵-۲۶ صلح کی وجہ، مکہ کے مؤمنوں کی جان کی حفاظت | پہلا اجر؛ آیہ ۱۸ بیعت رضوان میں شرکت کرنے والوں کا معنوی اجر | پہلا مطلب؛ آیہ ۱۱ جنگ میں حاضر نہ ہونے کے لیے منافقوں کے بہانے | پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۸-۹ پیغمبر کی مدد اور ان کا احترام | پہلا نتیجہ؛ آیہ ۱-۳ پیغمبر کی آئندہ کامیابیوں کے لیے میدان فراہم کرنا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دوسرا مطلب؛ آیہ ۲۹ مؤمنوں کو بہت بڑا اجر | دوسرا مطلب؛ آیہ ۲۵-۲۶ صلح کی وجہ، مکہ کے مؤمنوں کی جان کی حفاظت | دوسرا اجر؛ آیہ ۱۹-۲۱ صلح حدیبیہ کے بعد وافر مقدار میں غنیمت حاصل کرنا | دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۱-۱۲ منافقوں کے بہانے اور تصورات کا جواب | دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۰ بیعتِ رضوان کی پایبندی | دوسرا نتیجہ؛ آیہ ۴-۵ مومنوں کے ایمان اور اطمینانِ قلبی میں اضافہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تیسرا مطلب؛ آیہ ۲۷-۲۸ صلح حدیبیہ، فتح مکہ کا پیش خیمہ | تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۳-۱۴ بے ایمان منافقوں کو اخروی سزا | تیسرا نتیجہ؛ آیہ ۶-۷ اسلام کے دشمنوں کی ناکامی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چوتھا مطلب؛ آیہ ۱۵ جنگ خیبر کے غنائم سے منافقوں کی محرومی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پانچواں مطلب؛ آیہ ۱۶-۱۷ منافقوں کا توبہ، آیندہ جنگوں میں شرکت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تاریخی واقعات اور داستانیں
اس سورت میں ذکر ہونے والے بعض تاریخی واقعات اور داستانیں درج ذیل ہیں:
- صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کی کامیابی(آیت نمبر 1-3)
- بعض اعراب کا پیغمبر اکرمؐ کا ساتھ نہ دینا(آیت نمبر11-17)
- بیعت رضوان(آیت نمبر18)
- صلح حدیبیہ کے بعد مکہ میں مسمانوں اور کفار کے درمیان جنگ نہ ہونا(آیت نمبر 24)
- کافران کی جانب سے مسجدالحرام میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی اور مکہ میں داخل ہوئے بغیر قربانی کی اجازت دینا(آیت نمبر 25)
- مسجد الحرام میں داخل ہونے اور عمرة القضاء کی انجام دہی سے متعلق پیغمبر اکرمؐ کا سچا خواب(آیت نمبر 27)
ابتدائی آیات کی شأن نزول
انس بن مالک سے منقول ایک حدیث کے مطابق سورہ فتح صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ اس حدیث کے مطابق صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان مناسک حج کی انجام دہی کے بغیر اداسی کے عالم میں مدینہ واپس آگئے۔ اس دوران ایمان کی کمزوری میں مبتلا بعض افراد کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا ہونا شروع ہوا۔ اتنے میں فرشتہ وحی کے ذریعے پیغمبر اکرمؐ پر سورہ فتح نازل ہوئی؛ دراین اثنا، آنحضرتؐ کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہوئے اور فرمایا اب ایک ایسی آیت اور سورت نازل ہوئی ہے جو میری نظر میں دنیا و ما فیہا سے بہتر ہے۔[11]
آیات مشہورہ
آیت فتح مبین
اس آیت میں جس فتح کی نوید سنائی گئی ہے اس سے مراد کونسی فتح ہے اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے؛ اکثر مفسرین من جملہ: ابوالفتوح رازی، فیض کاشانی اور علامہ طباطبایی اس سے مراد صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کی کامیابی مراد لیتے ہیں اور کلمہ "فتحنا" کا صیغہ ماضی میں ہونا حاصل شدہ کامیابی کی طرف اشارہ قرار دیتے ہیں اور یہ صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کی کامیابی پر منطبق آتی ہے۔[12] بعض مفسرین اس سے فتح مکہ مراد لیتے ہیں جبکہ بعض اسے فتح خیبر،[13] بعض اسلام کی شرک اور کفر پر مکمل کامیابی[14] اور بعض مفسرین اس سے پیغمبر اسلامؐ کی علوم کے اسرار و رموز سے واقفیت مراد لیتے ہیں۔[15]
آیت بیعت
اس آیت کو سچے دل سے پیغمبر اکرمؐ کی بیعت کرنے والے مؤمنین پر خدا کی خوشنودی اور رضایت کی دلیل قرار دیتے ہیں اس شرط کے ساتھ کہ اس کے بعد پیغمبر اکرمؐ کے اوامر و نواہی کی مخالفت نہ کریں۔ اس آیت میں چونکہ مؤمنین پر رضایت مندی کا اظہار کیا گیا ہے اس لئے اسے "آیت رضوان" بھی کہا جاتا ہے۔[16]
آیات الاحکام
اس سورت کی آیت نمبر 27 آیات الاحکام میں سے ہے۔[17]
اس آیت میں مُحَلِّقِينَ رُؤُسَكُمْ وَ مُقَصِّرِينَ کی عبارت حج اور عمرہ میں حلق و تقصیر کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے ذریعے محرم احرام سے خارج ہو جاتا ہے۔ حلق و تقصیر کے مسئلے میں بعض فقہا اس آیت سے تمسک کرتے ہوئے تخییر کے قائل ہوتے ہوئے کہتے ہیں: محرم کو بال منڈوانے اور ناخن تراشنے میں اختیار ہے اور ان دونوں کو انجام دینا واجب نہیں ہے۔[18]
فضائل اور خواص
سورہ فتح کی تلاوت کے بارے میں احادیث میں بہت زیادہ فضائل نقل ہوئے ہیں؛ من جملہ یہ کہ جو شخص سورہ فتح کی تلاوت کرے وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ فتح میں شرکت اور بیعت شجره میں آپ کی بیعت كی ہو۔[19] اسی طرح منقول ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے اس سورت کے نزول کے وقت اپنے اصحاب سے فرمایا: مجھ پر ایک ایسی سورت نازل ہوئی ہے جو میرے نزدیک ان تمام چیزوں سے زیادہ افضل ہے جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے۔[20]
امام صادقؑ سے بھی منقول ہے: سورہ فتح کی تلاوت کے ذریعے مال و دولت اور بیوی بچوں کو تلف ہونے اور گزند پہنچنے سے محفوظ کرو؛ کیونکہ جو شخص سورہ فتح کی تلاوت پر مداومت کرے روز قیامت منادی اس طرح ندا دے گا جو تمام اہل قیامت سن لیں گے: اس شخص کو میرے شائستہ بندوں میں شامل کرو، بہشت میں میری نعمتوں تک پہنچا دو اور اسے اس میٹھے شربت سے سیراب کرو جو بہشتی کافور سے مخلوط ہے۔[21]
احادیث میں اس سورت کے بعض خواص بھی ذکر ہوئے ہیں؛ من جملہ ان میں خطرات سے محفوظ رہنا، خوف کا برطرف ہونا[22] اور ظالم حاکم کے شر سے محفوظ رہنا شامل ہیں۔[23]
متن اور ترجمہ
سورہ فتح
|
ترجمہ
|
---|
پچھلی سورت: سورہ محمد | سورہ فتح | اگلی سورت:سورہ حجرات |
1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آلعمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس |
حوالہ جات
- ↑ صفوی، «سورہ فتح»، ص۷۷۲۔
- ↑ معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۸۔
- ↑ خرم شاہی، «سورہ فتح»، ص۱۲۵۱۔
- ↑ رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶۔
- ↑ فرہنگنامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲۔
- ↑ صفوی، «سورہ فتح»، ص۷۷۲۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۸، ص۲۵۲۔
- ↑ صفوی، «سورہ فتح»، ص۷۷۲۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۲۲، ص۶-۷۔
- ↑ خامہگر، محمد، ساختار سورہہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۶۵؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۲، ص۷۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۱۸، ص۲۵۲۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۶۶۔
- ↑ مغنیہ، الکاشف، ۱۴۲۴ق، ج۷، ص۸۳۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۲، ص۱۰۔
- ↑ قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۳ش٬ ج۲، ص۳۱۵۔
- ↑ کاظمی، مسالک الافہام، ج۲، ص۲۴۸-۲۵۵۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونه، ۱۳۷۱ش، ج۲۲، ص۱۰۵۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۶۵۔
- ↑ متقی، کنزالعمال، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۲۹۰۔
- ↑ صدوق، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، ۱۴۰۶ق، ص ۱۱۵۔
- ↑ بحرانی، البرهان، ۱۴۱۵ق، ج۵، ص۷۷
- ↑ کفعمی، المصباح، ۱۴۰۵ق، ص۴۵۷
نوٹ
- ↑ قرآن کریم کی 16 سورتیں ہیں جن کو سیوطی ممتحنات کا نام دیتے ہیں۔ ان سورتوں میں: سورہ فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ اور تحریم شامل ہیں۔ (رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰۔)
مآخذ
- قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
- قرآن کریم، ترجمہ محمدمہدی فولادوند، تہران: دارالقرآن الکریم، ۱۴۱۸ق/۱۳۷۶ش۔
- بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان في تفسير القرآن، قم، موسسہ بعثت، ۱۴۱۵ق۔
- دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، بہ کوشش بہاء الدین خرمشاہی، تہران: دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش۔
- رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲ش۔
- صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، قم، دار الشریف الرضی للنشر، ۱۴۰۶ق۔
- صفوی، سلمان، «سورہ لقمان»، در دانشنامہ معاصر قرآن کریم، قم، انتشارات سلمان آزادہ، ۱۳۹۶ش۔
- طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۰ق۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، مقدمہ محمدجواد بلاغی، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش۔
- فرہنگنامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم۔
- قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، محقق، مصحح، موسوی جزائری، سید طیب، قم، دار الکتاب، ۱۴۰۴ق۔
- کاظمی، جواد بن سعد، مسالک الافہام الی آیاتالاحکام، بیتا۔
- کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح للكفعمي( جنۃ الأمان الواقيۃ)، قم، دار الرضی، ۱۴۰۵ق۔
- متقی، علی بن حسام الدین، کنز العمال فی السنن و الاقوال، محقق محمودعمر دمیاطی، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۹ق۔
- معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، تہران، مرکز چاپ و نشر سازمان تبلیغات اسلامی، ۱۳۷۱ش۔
- مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، قم، دارالکتاب الاسلامیہ، ۱۴۲۴ق۔
- مکارم شیرازی، ناصر و جمعی از نویسندگان، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۴ش۔